بین الاقوامی مشہور خبر

کشمیر: جسے پیلٹ گن کہا جاتا ہےوہ شاٹ گن ہے

gun

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک): ویب رپورٹ کے مطابق امریکہ میں انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے کہا ہے کہ کشمیر میں مظاہرین کے خلاف پیلٹ گنز کے استعمال سے سینکڑوں افراد مستقل طور پر معذور ہو گئے ہیں، جن میں سے متعدد افراد ایسے ہیں جن کی بینائی جا چکی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ بھارتی سکیورٹی فورسز نے کشمیری مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے 12 بور کی جو ’شاٹ گن‘ استعمال کی تھیں وہ مظاہرین کو قابو کرنے کے لیے بالکل ناموزوں ہیں۔
فزیشنز فار ہیومن رائٹس نامی ڈاکٹروں کی اس تنظیم نے پیر کو امریکہ میں جاری کی گئی ایک رپورٹ میں الزام لگایا ہے کہ وادی میں شورش کے دوران سکیورٹی فورسز بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے زخمیوں کے علاج میں روکاوٹیں ڈالتی رہی ہیں۔
خیال رہے کہ انڈیا کے زیرِ انتطام کشمیر میں اس سال جولائی کے اوئل میں شدت پسند تنظیم حزب المجاہدین کے ایک کمانڈر برہان الدین وانی کی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔
تین مہینے کی شورش کے دوران 90 سے زیادہ کشمیری نوجوان مظاہروں اور احتجاج میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے گئے جبکہ شورش کے دوران سینکڑوں پولیس اور سکیورٹی اہلکار بھی زخمی ہوئے۔
فزیشنز فار ہیومن رائٹس گروپ کی جانب سے کشمیر میں زخمی مظاہرین، ڈاکٹروں، مقامی لوگوں سے بات چیت اور ہسپتالوں کے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد تیار کی گئی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پیلٹ گنز کی فائرنگ سے کم از کم 12 افراد ہلاک اور 5200 مظاہرین زخمی ہوئے۔ ان میں سے سینکڑوں مظاہرین ہمیشہ کے لیے معزور ہو گئے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’پیلٹ گن سے جو کارتوس فائر کیے گئے تھے اس میں چھ سو سے زیادہ چھرے ہوتے ہیں۔ وہ مخصوص نشانے پر نہیں جاتے بلکہ پھیل جاتے ہیں جو دوسروں کو زخمی کر سکتے ہیں۔ اس کا استعمال مظاہرین کے خلاف کبھی نہیں کیا جانا چاہیے۔‘
تنظیم کے مطابق انڈین فورسز جسے ‘پیلٹ گن’ کہہ رہی ہیں وہ گمراہ کن نام ہے کیونکہ وہ پلیٹ گن نہیں بلکہ ‘شاٹ گن’ ہے
تنظیم کی طبی مشیر ڈاکٹر روہنی ہار کا کہنا ہے کہ ’قریب سے فائر کیے جانے پر پیلٹ گن بلٹ گن کی طرح خطرناک ہوتی ہے اور دور سے چلانے پر یہ ان لوگوں کو لگ سکتی ہے جو اطراف میں کھڑے ہوتے ہیں اور جو سنگ بازی نہیں کر رہے ہوتے، اگر یہ گردن، آنکھ اور چہرے پر لگے تو یہ چھرے کافی گہرا زخم دے سکتے ہیں۔‘
تنظیم کی ویب سائٹ پر شائع کی گئی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انڈین فورسز جسے ’پیلٹ گن‘ کہہ رہی ہیں وہ گمراہ کن نام ہے کیونکہ وہ پیلٹ گن نہیں بلکہ ’شاٹ گن‘ ہے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ ’اس 12 بور کی شاٹ گن میں فورس پیدا کرنے کے لیے انڈین سکیورٹی فورسز بارود استعمال کرتی ہیں جو اسے پیلٹ گن سے زیادہ طاقتور بنا دیتا ہے اور یہ جان لیوا ہو سکتا ہے۔‘
ان کے مطابق ’شاٹ گن کے جان لیوا ڈیزائن کے علاوہ 2013 سے 2016 تک اس میں جو کارتوس ’نمبر 9 شاٹ‘ استعمال کی جارہی ہے اس میں 616 لوہے کے چھرے ہوتے ہیں جنھیں دنیا کے دوسرے ممالک میں ’برڈو شاٹ‘ کہا جاتا ہے اور ان کا استعمال پرندوں اور چھوٹے جانوروں کو مارنے کے لیے کیا جاتا ہے۔‘
رپورٹ میں انڈین حکام پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ شورش کے دوران سکیورٹی فورسز نے ایمبولنس پر فائرنگ کر کے، سڑک پر ایمرجنسی گاڑیوں کے آنے جانے اور ہسپتالوں کے اندر زخمیوں کے علاج میں رکاوٹ ڈال کر زخمی مظاہرین کو طبی امداد حاصل کرنے سے روکا۔
اس کے علاوہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ طبی امداد سے روک کر ’انڈیا نے زندگی اور صحت کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔‘
تنظیم کی رپورٹ پر انڈیا کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، لیکن نومبر کے اوائل میں انڈیا کی پارلیمنٹ میں حزب اختلاف کے ارکان نے کشمیر میں بڑے پیمانے پر ہلاکتوں اور پیلٹ گنز کے استعمال سے ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین کے زخمی ہونے اور بینائی کھونے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔
اس وقت وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے پیلٹ گنز کے متبادل کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔ اس کمیٹی نے پیلٹ گنز کی جگہ مرچوں کی گیس والی ’پاوا گن‘ استعمال کرنے کی سفارش کی ہے۔
کشمیر میں علیحدگی پسند رہنما اب بھی نظر بند یا قید میں ہیں جبکہ موسم سرما کی آمد کے ساتھ مظاہروں اور جلسے جلوسوں کا سلسلہ بند ہو گیا ہے لیکن ان مظاہروں کی پاداش میں ہزاروں نوجوان جیلوں میں ہیں۔
انسانی حقوق کی مقامی تنظیمیں اور کارکن سو دنوں کی شورش میں زخمیوں کی تعداد دس ہزار سے زیادہ بتاتے ہیں۔
وادی کشمیر میں ان دنوں حالات قدرے پرسکون ہیں لیکن حالیہ دنوں میں اوڑی اور نگروٹہ سیکٹر میں انڈین فوج کے کیمپوں پر مشتبہ شدت پسندوں کے حملے کے بعد کنٹرول لائن اور بین الاقوامی سرحد پر شدید کشیدگی ہے۔
کشمیر میں شورش کے بعد انڈیا اور پاکستان کے تعلقات مسلسل خراب ہوتے گئے ہیں اور سیاسی سطح پر بات چیت کا رابطہ پوری طرح منقطع ہے۔