Untitled-9
بین الاقوامی

’چین کے نوجوانوں میں موٹاپا تیزی سے بڑھ رہا ہے‘

چین میں کی گئی ایک تحقیق میں خبر دار کیا گیا ہے سماجی اور معاشی تبدیلیوں کی وجہ سے چین کے دیہی نوجوانوں میں موٹاپا تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ سنہ 2014 میں 19 سال کے نوجوانوں میں 17 فیصد لڑکے اور آٹھ فیصد لڑکیاں موٹاپے کا شکار تھے جبکہ سنہ 1985 میں یہ تعداد صرف ایک فیصد تھی۔

یورپین جنرل آف پریوینٹو کارڈیالوجی میں شائع ہونے والی 29 سالوں پر محیط اس تحقیق میں شان ژونگ صوبے کے تقریباً 28,000 افراد طالب علم شامل تھے۔

اس تحقیق میں موٹاپے کا تعین کرنے کے لیے عالمی ادارۂ صحت کی تجویز کردہ حد سے زیادہ سخت حد مقرر کی گئی تھی۔

یورپین سوسائٹی آف کارڈیالوجی سے تعلق رکھنے والے جوپ پرک نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ’میں نے اس پہلے کبھی بچوں اور نوجوانوں میں موٹاپے کو اس بری طرح سے پھیلتا ہوا نہیں دیکھا۔‘

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ چین کے تیزی سے بدلتے معاشی اور سماجی حالات اور غذاؤں میں تبدیلی کی وجہ سے لوگ کھانے سے جتنی قوت حاصل کرتے ہیں اس کے مقابلے میں کام کم کرتے ہیں۔

روایتی چینی خوراک زیادہ چکنائی والی غذا میں تبدیل ہوگئی ہے جس میں طاقت تو ہے لیکن غذائی ریشوں کی کمی ہے۔

یہ اعداد و شمار شان ژونگ صوبے کے دیہی علاقوں کے سکول جانے والے سات اور 18 سال کی عمر کے طلبا پر کیے جانے والے چھ سرکاری تجزیوں سے حاصل کیے گئے ہیں۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ بچوں میں بھی وزن کی زیادتی کا تناسب بڑھ گیا ہے جو لڑکوں میں 0.7 سے بڑھ کر 16.4 اور لڑکیوں میں 1.5 سے بڑھ کر 14 فیصد ہوگیا ہے۔

لڑکیوں کے مقابلے میں لڑکوں میں موٹاپا اور وزن کی زیادتی پائے جانے کے بارے میں تحقیق کاروں کا کہنا ہے ’روایتی طور پر لڑکوں کو معاشرے میں ترجیح دی جاتی ہے خاص طور پر دیہی علاقوں میں اور ممکن ہے اس کی وجہ خاندان کو میسر سہولیات پر لڑکوں کی دسترس زیادہ ہو۔‘

ڈبلیو ایچ او کے تجویز کردہ بی ایم آئی (وزن اور قد کا تناست) کے مطابق 25 سے 29.9 کا بی ایم آئی زیادہ وزن جبکہ 30 یا اس سے اوپر کا بی ایم آئی موٹاپے کے زمرے میں آتا ہے۔

اس تحقیق میں اس حد کو کم کرکے 24 سے 27.9 بی ایم آئی کو زیادہ وزن اور 28 بی ایم آئی کو موٹاپا تجویز کیا گیا تھا۔

محققین نے تجویز دی ہے کہ اس ضمن میں وسیع تر اقدامات کرنا ہوں گے جن میں وقتاً فوقتاً وزن، نگرانی، تعلیم اور کھانوں میں غذائیت کا تناسب، جسمانی ورزش اور کھانے پینے کی عادات میں صحت مند تبدیلی شامل ہیں۔