قومی پاکستان کی خبریں

پاکستانی دہشتگرد افغانستان کی پناہ میں‌ہیں

nafees-zakaria

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے کہا کہ 20 میں سے پانچ شدت پسند گروہوں کے امیر افغانستان میں مارے گئے ہیں۔اس کے علاوہ دولتِ اسلامیہ خراساں گروپ، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان اور طالبان کے بعض ممبران افغانستان میں ہیں۔
حقانی نیٹ ورک کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ جہاں تک بات حقانی نیٹ ورک کی ہے تو اس کے ثبوت اور رابطے افغانستان میں ملے ہیں۔
واضح رہے کہ وزارتِ خارجہ نے اس سے قبل بھی یہ بات کہی تھی کہ حقانی نیٹ ورک کے رہنماؤں کی افغانستان میں گرفتاریاں ثابت کر رہی ہیں کہ وہ افغانستان میں ہیں لیکن ان کے اس اصرار کو بین الاقوامی سطح پر اب بھی شک کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستان پر الزام رہا ہے کہ وہ حقانی نیٹ ورک کے لیے نرم گوشہ رکھتا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نےایک بار پھر پاکستان میں دولتِ اسلامیہ کی منظم موجودگی کےامکان کو رد کرتے ہوئے کہا کہ کسی فرد کی جانب سے دعوے کو منظم موجودگی نہیں کہا جا سکتا۔