قومی

ممتاز سیاستدان جہانگیر بدر انتقال کر گئے

janagir-badar

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک):25 اکتوبر 1944 کو لاہور کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہونے والے پیپلز پارٹی کے سرکردہ رہنمااور سابق وفاقی وزیر جہانگیر بدرگزشتہ رات دل کا دورہ پڑنے سے 72 سال کی عمر میں آج لاہور میں انتقال کر گئے، ان کو لاہور کے مقامی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔
آج، سوموارکو ان کی نماز جنازہ پنجاب یونیورسٹی لاء کالج میں ادا گئی جس میں سابق وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی،راجہ پرویز اشرف، وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ، سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق، سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن، سابق چیئرمین سینیٹ نیئر عباس بخاری، وزیر تعلیم پنجاب مشہود احمد خان سمیت سیاسی اور سماجی شخصیات کی بڑی تعداد میں شرکت کی-
جہانگیر بدر کے خاندانی ذرائع کے مطابق انکودل اورگردوں کا عارضہ لاحق تھا اور وہ کچھ عرصے سے ہسپتال میں داخل تھے اور اتوار کو انہیں دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایک ٹویٹ میں جہانگیر بدر کے انتقال پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں یہ خبر سن کر صدمہ پہنچا ہے۔
جہانگیر بدر پینجاب پیپلز پارٹی کے سرکردہ رہنما تھے اور ان کا شمار بینظیر بھٹو کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا اور وہ پارٹی پر کڑے وقت میں ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑے رہے۔ انھوں نے طلبہ سیاست سے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا اور طلبہ تنظیم کے عہدے دار رہے۔ پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کی اور اسی جماعت کے پلیٹ فارم سے جمہوریت کے فروغ اور آمریت کے خلاف جدوجہد کی۔
جہانگیر بدر پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر اور مرکزی سیکرٹری جنرل کے عہدوں پر بھی رہے۔ 1988ءمیں انہوں نے لاہور سے قومی اسمبلی کا انتخاب لڑا اور منتخب ہونے پر وفاقی کابینہ میں جگہ بنائی۔