بین الاقوامی

بھارت میں کرنسی نوٹ بدلنے کے لیے بینکوں میں زبردست بھیڑ

indian-currency

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): بھارت میں حکومت کی جانب سے پانچ سو اور ہزار روپے کے کرنسی نوٹ پر پابندی لگائے جانے کے بعد سے لاکھوں لوگ ان نوٹوں کو تبدیل کرنے کے لیے بینک پہنچ رہے ہیں جس سے ملک کے تقریباً سبھی بینکوں میں گاہکوں کی زبردست بھیڑ ہے۔
بی بی سی کے مطابق بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ لوگوں کے پاس کرنسی نوٹ تبدیل کرنے کے لیے 30 دسمبر کا وقت ہے اس لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
لیکن عوام کو اس سلسلے میں کافی شکایتیں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ایسا پہلے بھی ہوا ہے تاہم اس بار حکومت نے وقت بہت کم دیا اس لیے لوگ زیادہ پریشان ہیں۔
حکومت کے اعلان کے مطابق بینک میں ایک ہزار اور پانچ سو کے کرنسی نوٹ کو تبدیل کرکے چار ہزار روپے تک تو نقد پیسہ حاصل کیا جاسکتا ہے لیکن اس کے علاوہ اضافی کرنسی کا تمام پیسہ ان کے اکاؤنٹ میں جمع ہوسکتا ہے۔
بعض بینکوں نے اپنے اوقات کار میں اضافہ کیا ہے جبکہ لوگوں کی بھیڑ کے باعث عارضی بنیادوں پر مزید افراد کو بھرتی بھی کیا گیا ہے. حکام کے مطابق اس غرض سے اس ہفتے تمام بینک سنیچر اور اتوار کے روز بھی کھلے رہیں گے۔
حکومت کی جانب سے یہ اقدام غیر قانونی رقوم اور کرپشن کے خلاف کیے جانے والے کریک ڈاؤن کا حصہ ہے۔ بدھ کے روز بینک بند رہے تاکہ انھیں نئے نوٹ جمع کرنے کے لیے وقت مل سکے۔ اس کے علاوہ اے ٹی ایم مشینوں کے ذریعے رقوم نکلوانے کو بھی محدود کیا گیا ہے۔
نوٹوں کی تبدیلی کے سلسلے میں ممبئی اور دہلی میں بینکوں کے باہر زبردست بدنظمی کے مناظر دیکھے گئے۔
دہلی میں بی بی سی کی نامہ نگار گیتا پانڈے نے بتایا ہے کہ بعض بینکوں نے اپنے اوقات کار میں اضافہ کیا ہے جبکہ لوگوں کی بھیڑ کے باعث عارضی بنیادوں پر مزید افراد کو بھرتی بھی کیا گیا ہے۔
بازاروں میں بھی اب کوئی ہزار روپے اور پانچ سوروپے کا نوٹ نہیں لے رہا ہے اس کی وجہ سے افراتفری کا ماحول ہے.
چھتیس گڑھ میں دہلی یونیورسٹی کے طالبعلم وجے کرن شرما نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ صبح سے قطار میں کھڑے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’دیوالی پر میں گھر گیا تو میرے والدین نے مجھے تحفے میں پیسے دیے، اب میں پڑھنے کی بجائے یہاں کھڑا ہوں۔‘
اطلاعات کے مطابق حکومت کے اس قدم سے کاروباری طبقے کو سب سے زیادہ مشکلیں پیش آرہی ہیں اور ممبئی، دہلی، اور حیدرآباد جیسے شہروں میں سو روپے کی نوٹ کی قلت کے سبب چھوٹے اور بڑے تاجروں کو کافی مشکلات کا سامنا ہے۔
نوٹوں کی تبدیلی کے سلسلے میں ممبئی اور دہلی میں بینکوں کے باہر زبردست بدنظمی کے مناظر دیکھے گئے. بازار میں اب کوئی ہزار روپے اور پانچ سو کا نوٹ نہیں لے رہا ہے جس کی وجہ سے افراتفری کا ماحول ہے۔ خاص طور وہ لوگ جن کے یہاں شادیاں یا کوئی تقریب ہے اور انھیں پیسوں کی ضرورت ہے۔
اس دوران حکومت نے دو ہزار روپے کا جو نیا کرنسی نوٹ تیار کیا ہے وہ بازار میں آگیا ہے اور حکومت کا کہنا ہے کہ بعض تبدیلیوں کے ساتھ نیا ہزار روپے کا نوٹ بھی چند ماہ میں تیار ہوکر آ جائے گا۔
لیکن اس سے عوام کی مشکلیں کم نہیں ہوئیں کیونکہ دو ہزار روپے کے کرنسی نوٹ کے چینج یا کھلے پیسے ملنے مشکل ہیں اس لیے بیشتر دکاندار اسے بھی لینے سے انکار کرتے ہیں۔ اس وقت دو ہزار کے نوٹ کے بعد سب سے بڑا سو روپے کا نوٹ ہے۔