قومی

آٹھ دہشتکردوں کو سرائے موت، قمر باجوہ کی توثیق

muslim-khan

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک): پاکستانی چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر باجوہ نے سبین محمود کے قتل، اسماعیلی برادری اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پرحملے سمیت مختلف جرائم میں ملوث 8 دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کی ہے- ان میں‌سواتی طالبان کے مسلم خان بھی شامل تھے جو کہ طالبان کے ترجمان تھا-
فوج کے شعبۃ تعلقاتِ عامہ کی جانب سےبیان میں کہا گیا ہے کہ ان دہشت گردوں کو فوجی عدالتوں نے سزائے موت سنائی ہے جبکہ تین دہشت گردوں کو فوجی عدالتوں نے عمر قید کی سزا دی ہے۔ مسلم خان کو سنہ 2009 میں فوجی آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔
آئی ایس پی آر کے اعلامیے کے مطابق پھانسی کی سزا دیے جانے والوں میں حافظ محمد عمیر، علی رحمان، عبدالسلام، خرم شفیق شامل ہیں۔ ان دہشت کا تعلق کالعدم تنظیموں سے تھا اور انھیں کراچی میں صفورا چورنگی پر اسماعیلی برادری کی بس پر حملے اور سماجی کارکن سبین محمود کے قتل میں ملوث تھے۔ کالعدم تنظیموں سے وابستہ دہشت گرد محمد یوسف، سیف اللہ، بلال محمود کو بھی سزائے موت دی گئی ہے۔
دہشت گرد سرتاج علی کو شدت پسندوں کی فنڈنگ کرنے کے جرم میں سزائے موت دی گئی ہے جبکہ کالعدم شدت پسند تنظیم سے وابستہ دہشت گرد محمود خان کو تاوان کے عوض چینی انجنیئر کے اغوا کا جرم میں 20 سال قید دی گئی ہے۔ پولیس چیک پوسٹ پر حملے کے جرم میں فضلِ غفار کو بھی عمر قید دی گئی ہے۔
فوج کے اعلامیہ کے مطابق ان تمام دہشت گردوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں زیر سماعت تھے اور انھوں نے عدالت میں اپنا جرم قبول کیا تھا۔
دسمبر 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد پاکستان کی پارلیمنٹ نے آرمی ایکٹ میں ترمیم کر کے فوجی عدالتوں کے قیام کی منظوری دی تھی۔ ان فوجی عدالتوں کی مدت دو سال تھی جو اب جنوری میں ختم ہونے والی ہے۔